مسئلہ نمبر 107

مجھے یہ جاننا ہے کہ اعتکاف کی شرعی حیثیت اور اس کی فضیلت کیا ہے؟ نیز رمضان المبارک کے آخری عشرے میں اعتکاف کی کیا اہمیت ہے، نبی کریم ﷺ کا اس کے بارے میں کیا معمول رہا ہے اور اعتکاف کی حکمت و مقاصد کیا بیان کیے گئے ہیں؟ قرآن و حدیث کی روشنی میں اس کی وضاحت فرما دیں۔
 الجواب بتوفیق اللہ الوہاب
اللہ ربُّ العزت کا یہ عظیم احسان ہے کہ اس نے رمضان المبارک جیسا بابرکت مہینہ عطا فرمایا ہے۔ یقیناً یہ ایسا متبرک مہینہ ہے کہ جس میں اعمالِ صالحہ کے اجر و ثواب میں غیر معمولی اضافہ کر دیا جاتا ہے، چنانچہ
نبی رحمت ﷺ فرماتے ہیں کہ
مَنْ تَقَرَّبَ فِيهِ بِخَصْلَةٍ مِنَ الْخَيْرِ، كَانَ كَمَنْ أَدَّى فَرِيضَةً فِيمَا سِوَاهُ، وَمَنْ أَدَّى فِيهِ فَرِيضَةً كَانَ كَمَنْ أَدَّى سَبْعِينَ فَرِيضَةً فِيمَا سِوَاهُ: یعنی جو شخص اس (رمضان المبارک کے مہینے) میں کسی نیکی کے ذریعے اللہ کا قرب حاصل کرنے کی کوشش کرے، اسے ایسا ثواب ملتا ہے جیسے اس نے دوسرے زمانوں میں ایک فرض ادا کیا ہو۔ اور جو شخص اس میں ایک فرض ادا کرے، اسے ایسا ثواب ملتا ہے جیسے اس نے دوسرے زمانوں میں ستر فرض ادا کیے ہوں۔
(صحیح ابن خزیمۃ۔حدیث نمبر 1887۔جزء3۔صفحہ191)
اسی طرح مفتی احمد یارخان نعیمی علیہ الرحمہ فرماتے ہیں کہ
رمضان میں نفل عبادت کا ثواب فرض کے برابر اور فرض کا ثواب ستر گنا ملتاہے ۔
(تفسیر نعیمی۔جلد2۔صفحہ 208)
معلوم ہواکہ رمضان المبارک ایسا مبارک مہینہ ہے کہ جس میں اللہ تعالیٰ کی رضا اور اس کے قرب کے حصول کے بے شمار اسباب میسر ہوجاتے ہیں۔ اس ماہِ مبارک کا ہر عشرہ بلکہ ہر لمحہ رحمت و برکت سے معمور ہوتا ہے، تاہم رمضان المبارک کا آخری عشرہ اپنی فضیلت اور برکت کے اعتبار سے خاص امتیاز رکھتا ہے۔اسی عشرہِ مبارکہ کی اہم عبادات میں سے ایک اہم عبادت اعتکاف بھی ہے کہ جس کے ذریعے بندہ دنیاوی مشاغل سے کنارہ کش ہو کر مکمل طور پر اللہ تعالیٰ کی عبادت اور اس کے قرب کے حصول میں مشغول ہو جاتا ہے۔ یعنی اگر بندگانِ خدا ان بابرکت دنوں میں شریعتِ مطہرہ کی تعلیمات کے مطابق اعتکاف کریں تو نہ صرف گناہوں سے پاکیزگی حاصل ہوتی ہے بلکہ یہ عمل درجات کی بلندی اور قربِ الٰہی کے حصول کا ذریعہ بھی بن جاتا ہے۔ چنانچہ اس بارے میں
نبی کریم ﷺ نے اعتکاف کی فضیلت بیان کرتے ہوئے ارشاد فرمایا کہ
مَنِ اعْتَكَفَ إِيمَاناً وَاحْتِساباً غُفِرَ لَهُ مَا تقدم من ذنبه
یعنی ایمان اور ثواب کی نیت سے اعتکاف کرنے والے کے سابقہ (صغیرہ)گناہ معاف کر دیے جاتے ہیں۔
(جامع الصغیر۔حدیث 12230)
اسی طرح ایک اور روایت میں ارشاد فرمایا کہ
مَنِ اعْتَكَفَ عَشْراً فِي رَمَضَانَ كانَ كَحَجَّتَيْنِ وعمرتين
یعنی رمضان المبارک میں دس دن اعتکاف کرنے والا ایسا ہے جیسے اس نے دو حج اور دو عمرے ادا کیے ہوں۔
(جامع الصغیر۔حدیث 12229)
مزید برآں اعتکاف کی اہمیت کا اندازہ اس بات سے بھی ہوتا ہے کہ خود نبی کریم ﷺ اس عمل مبارک کا خصوصی اہتمام فرمایا کرتے تھے۔ آپ ﷺ کا معمول مبارک یہ تھا کہ رمضان المبارک کے آخری عشرے میں اعتکاف فرمایا کرتے تھے۔ یہاں تک کہ ایک مرتبہ کسی عذر کی بنا پر آپ ﷺ اعتکاف نہ کر سکے تو اگلے سال آپ ﷺ نے بیس دن اعتکاف فرمایاہے چنانچہ
حضرتِ انس بن مالک رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں
كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَعْتَكِفُ فِي العَشْرِ الأَوَاخِرِ مِنْ رَمَضَانَ، فَلَمْ يَعْتَكِفْ عَامًا، فَلَمَّا كَانَ فِي العَامِ الْمُقْبِلِ اعْتَكَفَ عِشْرِينَ:
یعنی نبی کریم ﷺ رمضان کے آخری دس دنوں میں اعتکاف کیا کرتے تھے۔ ایک سال آپ ﷺاعتکاف نہ کر سکے، تو جب اگلا سال آیا تو آپﷺ نے بیس دن اعتکاف فرمایاہے
(سنن ترمذی۔حدیث 803)
اس حدیثِ مبارکہ سے معلوم ہوتا ہے کہ رسول اللہ ﷺ کو آخری عشرے کا اعتکاف نہایت محبوب تھا۔ اسی طرح اعتکاف کی حکمت کے بارے میں فتاویٰ ھندیہ میں ذکر ہوا کہ
(وَأَمَّا مَحَاسِنُهُ فَظَاهِرَةٌ) فَإِنَّ فِيهِ تَسْلِيمَ الْمُعْتَكِفِ كُلِّيَّتَهُ إلَى عِبَادَةِ اللَّهِ تَعَالَى فِي طَلَبِ الزُّلْفَى وَتَبْعِيدِ النَّفْسِ مِنْ شُغْلِ الدُّنْيَا الَّتِي هِيَ مَانِعَةٌ عَمَّا يَسْتَوْجِبُ الْعَبْدُ مِنْ الْقُرْبَى، وَاسْتِغْرَاقِ الْمُعْتَكِفِ أَوْقَاتَهُ فِي الصَّلَاةِ إمَّا حَقِيقَةً أَوْ حُكْمًا؛ لِأَنَّ الْمَقْصِدَ الْأَصْلِيَّ مِنْ شَرْعِيَّتِهِ انْتِظَارُ الصَّلَاةِ بِالْجَمَاعَاتِ، وَتَشْبِيهُ الْمُعْتَكِفِ نَفْسَهُ بِمَنْ لَا يَعْصُونَ اللَّهَ مَا أَمَرَهُمْ وَيَفْعَلُونَ مَا يُؤْمَرُونَ وَبِاَلَّذِينَ يُسَبِّحُونَ اللَّيْلَ وَالنَّهَارَ، وَهُمْ لَا يَسْأَمُونَ:
یعنی اس (اعتکاف) کی خوبیاں ظاہر ہیں؛ کیونکہ اس میں معتکف اپنے آپ کو مکمل طور پر اللہ تعالیٰ کی عبادت کے لیے وقف کر دیتا ہے تاکہ اللہ کا قرب حاصل کرے، اور اپنے نفس کو دنیا کے مشاغل سے دور رکھتا ہے، کیونکہ یہ مشاغل بندے کو اللہ کے قرب کا مستحق بننے سے روک دیتے ہیں۔اور معتکف اپنے اوقات نماز میں مشغول رکھتا ہے، چاہے حقیقتاً نماز میں ہو یا حکماً (یعنی نماز کا انتظار بھی مثلِ نماز ثواب ہوتا ہے )
؛ کیونکہ اس کی مشروعیت کا اصل مقصد جماعت کے ساتھ نماز کا انتظار کرنا ہے۔اور معتکف اپنے آپ کو ان ہستیوں (ملائکہ)کے مشابہ بنانے کی کوشش کرتا ہے جو اللہ کے حکم کی نافرمانی نہیں کرتے بلکہ جو حکم دیا جاتا ہے اسے بجا لاتے ہیں، اور ان کی طرح جو رات اور دن اللہ کی تسبیح کرتے رہتے ہیں اور کبھی تھکتے نہیں ہیں۔
(فتاویٰ ھندیہ جزء1۔صفحہ212)
خلاصہ کلام یہ ہے کہ رمضان المبارک کے آخری عشرے کا اعتکاف، نبی کریم ﷺ کی محبوب سنت ہے یہ ایک اہم عبادت ہے لہذا مسلمانوں کو چاہیے کہ وہ اس عظیم سنت کی قدر کریں اور حتی المقدور رمضان المبارک کے آخری عشرے میں اعتکاف کا اہتمام کریں۔ اگر ہر سال ممکن نہ ہو تو وقتاً فوقتاً اس سنت کو ضرور ادا کریں اور کم از کم زندگی میں ایک مرتبہ ضرور اعتکاف کریں۔ بعید نہیں کہ یہی عمل اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں قبول ہو کر ہماری مغفرت اور نجات کا ذریعہ بن جائے۔

کتبہمفتی محمد عابد اقبال
واللہ ورسولہ اعلم بالصواب

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *