مسئلہ نمبر 108

میرا سوال یہ ہے کہ اگر کوئی شخص، صدقہ فطر اداء کرنا بھول جائے… یا… وقت بہت کم ہو، جیسے جب نمازِ عید کے لئے جائیں تو نماز شروع ہونے والی ہو، تو ایسی صورت میں اگر صدقہِ فطر اداکرتے ہیں تو نمازِ چھوٹ جانے کا خوف ہو تو اب ایسی صورت میں کیا کیا جائے ؟ اگر نماز سے پہلے اداء نہ کیا تو کیا ہم گناہگار ہوں گے ؟؟اگر مجبوری میں تاخیر کریں توکیا صدقہ فطر ادا ہوجائے گا؟؟ اور کیا ہم گناہگار ہوں گے؟
الجواب بتوفیق اللہ الوھاب اولا ً یہ قاعدہِ شرع یاد رکھیں کہ بروزِ عید،صبح صادق طلوع ہونے پر صدقہِ فطر واجب ہوجاتاہے جیساکہ
تبیین الحقائق میں ذکر ہے
تَجِبُ صَدَقَۃُ الْفِطْرِ بِطُلُوعِ الْفَجْرِ مِنْ یَوْمِ الْفِطْرِ یعنی صدقہ فطر، عید الفطر کے دن صبح صادق کے طلوع ہونے پر واجب ہوتا ہے (تبیین الحقائق۔باب صدقۃ الفطر۔ جلد1۔ صفحہ 310) نیزصدقہِ فطر کی ادائیگی کے لیے مستحب یہی ہے کہ نمازِ عید سے پہلے اسے ادا کردیا جائے کیونکہ
درمختار میں ذکرہے وَیُسْتَحَبُّ إخْرَاجُہَا قَبْلَ الْخُرُوجِ إلَی الْمُصَلَّی یعنی عید کی نماز کے لیے عیدگاہ کی طرف نکلنے سے پہلے صدقہ فطر ادا کرنا مستحب ہے۔ (باب صدقۃ الفطر۔ جلد2۔ صفحہ367) تاہم اگر کوئی اس میں تاخیر کرے تو اس تاخیر پر انسان، گناہ گار نہ ہوگا کیونکہ صدقہِ فطر بروز عید، صبح صادق طوع ہونے پر واجب ضرور ہوتاہے لیکن اس کی ادائیگی کا وقت ،ساری زندگی ہوتاہے جیساکہ حاشیۃ الطحطاوی میں ذکرہے
تَجِبُ مُوَسَّعًا فِی الْعُمُرِ عِندَ اَصحَابِنا وَھُوَالصَحِیحُ یعنی ہمارے اصحاب کے نزدیک صدقہ فطر واجب ہے اوراس کا وقت عمر بھر ہے اور یہی صحیح ہے (جزء1۔صفحہ723) نیزمراقی الفلاح میں ذکرہے
وَصَحَّ لَوْ قَدَّمَ أَوْ أَخَّرَ، وَالتَّأْخِيرُ مَكْرُوهٌ۔ یعنی اگر کوئی اسے (صدقہ فطر کو)پیشگی یا تاخیر سے اداء کرے تو بھی جائز ہے، البتہ تاخیر کرنا مکروہ ہے۔ (جزء1۔صفحہ723) نیز یہ بھی یاد رہے کہ یہ تاخیر مکروہ تنزیہی ہے ،یعنی شریعتِ اسلامیہ اس قدر تاخیر کو ناپسند کرتی ہے، ہاں ! اگر معقول عذر ہو تو اب تاخیر مکروہِ تنزیہی بھی نہ ہوگی۔

کتبہمفتی محمد عابد اقبال
واللہ ورسولہ اعلم بالصواب

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *