مجھے نکاح کے بارے میں معلوم کرنا ہے ، کچھ عرصے قبل میں نے اپنے کزن سے مذاق مذاق میں، فون پر نکاح کیا ہے۔اور ہم نے ایک دوسرے کو قبول ہے بھی کہا تھا، فون پر صرف ہم دونوں ہی تھے، کوئی گواہ وغیرہ بھی نہیں تھا۔ آپ بتائیں کہ کیا ہمارا یہ نکاح ہوا ہے یا نہیں؟اگر ہوا ہے تو اب میں کیا کروں؟
الجواب بتوفیق اللہ الوہاب
جواب سے قبل یہ بات یاد رہے کہ بلاعذرِ شرعی کسی بھی نامحرم سے ، کسی بھی طرح کے روابط رکھنا جائز نہیں ،لہذا اس فعلِ قبیح سے اجتناب لازم ہے ۔
اس وضاحت کے بعد!یہ مسئلہ بخوبی یاد رکھیں کہ ایجاب اور قبول، نکاح کے ارکان میں سے ہیں، جبکہ نکاح کی مجلس کا ایک ہونا، گواہوں کا موجود ہونا وغیرہا امور، نکاح کی شرائط میں داخل ہیں۔چنانچہ
جب نکاح کے ارکان و شرائط مکمل طور پر پائے جائیں گے، تو ہی نکاحِ صحیح ہوگا، بصورتِ دیگر، نکاحِ فاسد ...یا...نکاحِ باطل قرار پائے گا۔جیساکہ
الفقہ علی المذاہب الاربعۃ میں ذکر ہے
والنکاح الفاسد ہو ما اختل فیہ شرط من الشروط المتقدمۃ أما النکاح الباطل فہو ما اختل فیہ رکن
یعنی نکاحِ فاسد سے مراد وہ نکاح ہے کہ جس میں بیان کی گئی شرائط (جیسے گواہوں کے بغیر نکاح ، ایک مجلس کا نہ ہونا وغیرہ)میں سے کوئی شرط مفقود ہو ۔اور نکاحِ باطل سے مراد وہ نکاح ہے جس میں نکاح کے ارکان، (جیسے ایجاب و قبول یا ان میں سے کوئی رکن) مفقود ہو ۔
(الفقہ علی المذاہب الاربعۃ۔جزء4۔صفحہ 109)
دلائلِ مذکور سے معلوم ہواکہ صورتِ مسؤلہ میں اگرچہ نکاح کے ارکان (یعنی ایجاب و قبول )پائے گئے ، لیکن شرائطِ نکاحِ یعنی مجلس ایک ہونا، گواہوں کا موجودہونا نہیں پایا گیا، چنانچہ!۔
صورتِ مستفسرہ میں کیا گیا نکاح ، نکاحِ فاسد ہے اورنکاحِ فاسد کا حکم یہ ہے کہ زوجین پر متارکہ(علیحدگی اختیارکرنا) لازم ہے ۔،نیز ان دونوں کو اس نکاح (فاسد)کو فسخ کرنے کا اختیار حاصل ہوتاہے ۔
جیساکہ درمختار میں ہے
وَ یَثْبُتُ لِکُلِّ وَاحِدٍ مِنْہُمَا فَسْخُہُ وَلَوْ بِغَیْرِ مَحْضَرٍ عَنْ صَاحِبِہِ دَخَلَ بِہَا أَوْ لَا فِی الْأَصَحِّ
خاوند اور بیوی دونوں کو (فاسد نکاح میں )فسخ کا اختیار ہے، دونوں کو یہ اختیار دوسرے کی موجودگی کے بغیر بھی ہے دخول(جسمانی تعلق قائم) کیا ہو یانہ، اصح روایت یہی ہے۔
( درمختار۔جلد3صفحہ132)
نیز یہ بھی یاد رہے کہ زوجین کامحض دوری اختیارکرنا، تفریق نہیں، بلکہ الفاظ کے ذریعے اس نکاح کو ختم کرنا بھی ضروری ہے۔اس نکاح فاسد کو فسخ کرنے کا طریقہ کار یہ ہے کہ شوہر یا بیوی یوں کہے کہ میں نے اسے چھوڑا...یا ... میں نے اس نکاح کو ختم کیا...یا ... کوئی بھی ایسا جملہ کہے کہ جو اس نکاح کے ختم کرنے پر دلالت کرے۔جیساکہ
امام برھان الدین بخاری حنفی متوفیٰ(المتوفی ھ 616 ) فرماتے ہیں۔
فی (مجموع النوازل)الطلاق فی النکاح الفاسد لیس بطلاق علی الحقیقۃ بل ہو متارکۃ، حتی لا ینتقص من عدد الطلاق، والمتارکۃ فی النکاح الفاسد لا تتحقق بعدم مجیء کل واحد منہما إلی صاحبہ، وإنما تتحقق بالقول بأن یقول الزوج مثلاً: ترکتک، ترکتہا خلیت سبیلک، خلیت سبیلہا واللہ أعلم بالصواب.
یعنی کتاب مجموع النوازل میں بیان کیا گیا ہے کہ فاسد نکاح میں طلاق حقیقتاً طلاق نہیں ہوتی بلکہ اسے متارکہ (علیحدگی) شمار کیا جاتا ہے، تاکہ طلاق کی تعداد میں کمی نہ آئے۔(یعنی اس نکاح کو فسخ کرنے کے بعد، اگریہ باہمی نکاح کریں، تو شوہر کو 3طلاق کا حق حاصل ہوگا)
اور نکاح فاسد میں متارکہ اس طرح واقع نہیں ہوتا کہ دونوں میں سے ہر ایک دوسرے کے پاس آنا چھوڑ دے، بلکہ متارکہ،الفاظ کی ادائیگی سے ہوتاہے ، جیسے شوہر (یا بیوی ) یوں کہے کہ ، میں نے تجھے چھوڑا،میں نے اسے چھوڑ دیا،میں نے تمہارا راستہ کھول دیا ،میں نے اسے آزاد کر دیا(وغیرہ ) واللہ أعلم بالصواب
(المحیط برھانی۔جزء3۔صفحہ122)
ضمناً یہ بات بھی یاد رہے کہ نکاح فاسد میں عورت پر عدت نہیں ہے البتہ اگر جسمانی تعلق قائم کیا ہو، تو اب عدت بھی لازم ہے،جیساکہ
فتاویٰ ھندیہ میں ذکر ہے
إن فرق قبل الدخول لا تجب العدۃ ۔۔۔۔وإن فرق بعد الدخول کان علیہا الاعتداد من وقت التفریق
یعنی جسمانی تعلق قائم کرنے سے پہلے (زوجین میں تفریق )ہو جائے، تو عورت پر عدّت واجب نہیں اور اگر جسمانی تعلق قائم کرنے کے بعدعلیحدگی ہو، تو عورت پر علیحدگی کے کے وقت سے عدّت گزارنا لازم ہوگا۔
(فتاویٰ ھندیہ ۔جلد1۔صفحہ526)
