میرا مورخہ05-09- 2025 کو اپنی اہلیہ سے کسی بات جھگڑا ھوا میں نے کافی حد تک کنٹرول کیا لیکن جھگڑے میں شدت آنے پر میں نے غصے میں اپنی اہلیہ کو ایک جملہ بولا جس میں میرے الفاظ یہ تھے کہ میں نے تجھے طلاق دی ,طلاق ,طلاق ۔ پھر میں گھر سے نکل گیا ۔ میری نیت ایک طلاق کی تھی ۔ اس حوالے سے مجھے اتنا علم تھا کہ اگر لفظ طلاق میں پہلی بار طلاق کی نیت ھو اور اسکے بعد دیگر الفاظ طلاق کو بطور تاکید استعمال کریں تو ایک ھی طلاق نافذ ھوتی ھے ۔اب صورتحال یہ ہے کہ کچھ سنی حنفی ائمہ مساجد(علماء) کہ جن سے اس حوالے سے پوچھا وہ بتاتے ہیں کہ اگر یہی صورت حال ھے تو ایک طلاق نافذ ھوئی ہے جبکہ بعض سنی حنفی علماء سے دریافت کرنے پر معلوم ہوا ھے کہ تینوں طلاقیں ھو گئیں ہیں۔ مزید یہ کہ دس دن بعد اپنی اہلیہ سے رجوع کرنے کے بعد میرے رشتے داروں میں سے کچھ احباب مجھ پر طرح طرح کی باتیں کر رہے ہیں اور مجھ سے بائیکاٹ کر رکھا ہے ۔اس حوالے سے آپ سے قرآن و سنت کی روشنی میں فتوی درکار ھے کہ میرا عمل اور اسکے ردعمل میں میرے رشتے داروں کا میرے ساتھ رویہ شرعاً کیسا ہے؟
الجواب بتوفیق اللہ الوہاب
حکمِ شرع جاننے سے پہلے درج ذیل حدیثِ مبارکہ ضرور ذہن نشین رہے
صحیح بخاری میں ہے
قَالَ خَالِدُ بْنُ الوَلِیدِ یَا رَسُولَ اللَّہِ ﷺ أَلاَ أَضْرِبُ عُنُقَہُ؟ قَالَ(ﷺ) لاَ، لَعَلَّہُ أَنْ یَکُونَ یُصَلِّی فَقَالَ خَالِدٌ،وَکَمْ مِنْ مُصَلٍّ یَقُولُ بِلِسَانِہِ مَا لَیْسَ فِی قَلْبِہِ، قَالَ رَسُولُ اللَّہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ إِنِّی لَمْ أُومَرْ أَنْ أَنْقُبَ عَنْ قُلُوبِ النَّاسِ وَلاَ أَشُقَّ بُطُونَہُمْ
یعنی(ایک جنگ کے موقع پر )حضرتِ خالد بن ولید رضی اللہ عنہ نے ، نبی کریم ﷺ کی خدمت میں (ایک منافق کے حوالے سے )عرض کی کہ یا رسول اللہ ﷺ کیوں نہ اس شخص کی گردن مار دوں؟(اسے ہلاک کردوں،تو) آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ نہیں، شاید وہ نماز پڑھتا ہے ،اس(بات) پرحضرتِ خالد رضی اللہ عنہ نے عرض کی کہ بہت سے نماز پڑھنے والے ایسے ہیں جو زبان سے اسلام کا دعویٰ کرتے ہیں جبکہ ان کے دل میں وہ(اسلام) نہیں ہوتاہے۔تو رحمتِ دوعالم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ مجھے اس کا حکم نہیں ہوا ہے کہ لوگوں کے دلوں کی کھوج لگاؤں اور نہ ہی اس کا حکم ہوا کہ ان کے پیٹ چاک کروں۔
(صحیح البخاری۔حدیث4351 ۔جزء5۔صفحہ163)
اس حدیثِ مبارکہ سے علماء امت نے یہ اصول و ضابطہ اخذ کیا ہے کہ شریعت کے احکام ،ظاہر پرمبنی ہوتے ہیں۔
فتح الباری میں ذکر ہے
وَکُلُّہُمْ أَجْمَعُوا عَلَی أَنَّ أَحْکَامَ الدُّنْیَا عَلَی الظَّاہِرِ وَاللَّہُ یَتَوَلَّی السَّرَائِرَ
یعنی تمام علماء اسلام کا اتفاق ہے کہ دنیاوی احکام ظاہر پر لاگو ہوتے ہیں اوردل کی حقیقت ، اللہ تعالیٰ جانتا ہے۔
(جزء12۔صفحہ273)
چنانچہ !ذکرکردہ حدیث اور اس سے ثابت اصولِ شرع ثابت ہواکہ صورتِ مستفسرہ میں سائل کی نیت اگرچہ ایک طلاق کی تھی، لیکن چونکہ اس نے الفاظِ طلاق تین بار اداکئے ہیں لہذا (حکمِ ظاہر کے سبب)تینوں طلاقیں واقع ہوگئی اور عورت نکاح سے خارج ہوگئی۔اسی بات کو
علامہ زین الدین ابن نجیم رحمہ اللہ (المتوفی )(970)ھ فرماتے ہیں
لوقال لزوجتہ انت طالق طالق طالق طلقت ثلاثافان قال اردت بہ التاکید صدق دیانۃ لاقضاء
اگر کسی نے اپنی بیوی سے کہا تجھے طلاق طلاق طلاق، تو اسے تین طلاقیں واقع ہوں گی اگر شوہر یہ کہے کہ میں نے تاکید مراد لی تھی تو دیانۃً(یعنی اللہ تعالیٰ کے نزدیک)اس کی تصدیق کردی جائے گی لیکن قضاء ً(عدالت کے اعتبارسے معتبر) نہیں ہوگی۔(یعنی تینوں طلاقیں ہوجائے گی ۔(الاشباہ والنظائر۔جزء1۔صفحہ 126)
اسی طرح علامہ عثمان بن علی الزیلعی الحنفی (المتوفی743ہ فرماتے ہیں۔
إذَا قَالَ أَنْتِ طَالِقٌ طَالِقٌ طَالِقٌ، وَقَالَ إنَّمَا أَرَدْت بِہِ التَّکْرَارَ صُدِّقَ دِیَانَۃً لَا قَضَاء ً فَإِنَّ الْقَاضِیَ مَأْمُورٌ بِاتِّبَاعِ الظَّاہِرِ وَاَللَّہُ یَتَوَلَّی السَّرَائِرَ وَالْمَرْأَۃُ کَالْقَاضِی لَا یَحِلُّ لَہَا أَنْ تُمَکِّنَہُ إذَا سَمِعَتْ مِنْہُ ذَلِکَ أَوْ عَلِمَتْ بِہِ؛ لِأَنَّہَا لَا تَعْلَمُ إلَّا الظَّاہِرَ
یعنی جب شوہر کہے تجھے طلا ق ہے طلاق ہے طلاق ہے " اور وہ کہے کہ "میں نے اس سے تکرارِ لفظ (یعنی تاکید) کا ارادہ کیا تھا" تو اس کی بات دیانتاً (اللہ تعالیٰ کے نزدیک ) تسلیم کی جائے گی ،لیکن قضائً اعتبار نہ ہوگا(یعنی تینوں طلاقیں واقع ہونے کا حکم ہوگا۔)کیونکہ قاضی کو ظاہر پر حکم لگانے کا حکم دیا گیا ہے، اور باطن کے امور اللہ تعالیٰ کے سپرد ہیں۔اور عورت (بیوی) بھی قاضی ہی کی مثل ہے (یعنی )، ، جب اس نے اس(شوہر) سے یہ الفاظ سنے ہوں یا (ان کلمات کے بارے میں اسے) علم حاصل ہوا،تو اب اس کے لیے بھی جائز نہیں کہ وہ شوہر کو اپنے پاس آنے دے کیونکہ وہ بھی صرف ظاہر ہی کو جانتی ہے۔
(تبیین الحقائق۔جزء2۔صفحہ218)
حاصلِ کلام یہ ہے کہ صورت ِ مستفسرہ میں تینوں طلاقیں واقع ہونے کے سبب ، عورت نکاح سے خارج ہوگئی، اب بغیر حلالہ شرعی رجوع کی کوئی گنجائش نہیں
کیونکہ اللہ تعالیٰ فرماتاہے
فَاِن طَلَّقَہَا فَلَا تَحِلُّ لَہ مِنْ بَعْدُ حَتّٰی تَنْکِحَ زَوْجًا غَیْرَہ
یعنی پھراگر(شوہر اپنی بیوی کودوطلاق دینے کے بعد) اسے تیسری طلاق بھی دے دے،تواب اس(سابق شوہر)کے لئے حلال نہیں،یہاں تک کہ(عدت گزارنے کے بعد)وہ(مطلقہ)عورت(اپنے سابق شوہر کے علاوہ )کسی دوسرے مردسے،نکاح نہ کرلے۔(سورۃالبقرہ:آیت230)
رحمت ِ دوعالم ﷺفرماتے ہیں
اذاطلق الرجل امرأتہ ثلاثالاتحل لہ حتی تنکح زوجاًغیرہ ویذوق کل واحد منہما عسیلۃ صاحبہ
یعنی جب شوہراپنی بیوی کوتین طلاقیں دےدے،تو عورت،اس مرد پراُس وقت تک حلال نہ ہوگی،جب تک وہ کسی دوسرے مرد سے نکاح کرکے ،اُن میں سے ہرایک اپنے ساتھی کاکچھ شہدنہ چکھ لے۔
(دارقطنی۔جزء 9۔صفحہ252)
اس وضاحت کے بعد!۔ صورتِ مسؤلہ میں ائمہ مساجد (علماء ) کا تین طلاق کو ایک طلاق قرار دینا یقینا ان کی کم علمی اور شرعی فہم کی کوتاہی کی دلیل ہے۔ ان پر لازم ہے کہ وہ کتاب و سنت اور فقہاء ِ امت کے متفقہ اقوال کا مطالعہ کریں، اپنی غلطی پر توبہ کریں اور آئندہ امت کے اس نازک اور حساس مسئلے میں بغیر تحقیق کے فتویٰ دینے سے سخت اجتناب کریں۔
نیز!۔ چونکہ علماء امت کے متفقہ فیصلے کے مطابق تینوں طلاقیں واقع ہوچکی تھیں، لہٰذا خاندان والوں کااس غلط رجوع پر سخت موقف اختیار کرتے ہوئے سوشل بائیکاٹ کرناعین مطابق شرع ہوا۔لہذا اب سائل پرلازم ہے کہ وہ فی الفور علیحدگی اختیار کرتے ہوئے اپنی آخرت کی حفاظت کرے۔
