مسئلہ نمبر 96

اگر کوئی عورت، اپنے شوہر کی اجازت کے بغیر گھر سے باہر قدم رکھتی ہے تو کیا وہ گناہگار ہوگی ؟ کیونکہ کبھی ایسا بھی ہوتاہے کہ شوہر سے اجازت لینا یاد نہیں رہتا ، اور کبھی شوہر سے اجازت لیں تو وہ کہتے ہیں کہ اتنی چھوٹی باتوں کے لئے اجازت کی کیا ضرورت!!!آپ یہ بتائیں کہ ہمیں کب کب اجازت لینی ضروری ہے ، تاکہ گناہ گاری نہ ہوجائے۔
 الجواب بتوفیق اللہ الوہاب
اولاً ضابطہ شرع یاد رہے کہ اسلام نے عورت کو عصمت و عفت کا پیکر اور گھر کی زینت بنایاہے ۔
اللہ تعالیٰ فرماتا ہے
وَقَرْنَ فِی بُیُوتِکُنَّ اور اپنے گھروں میں ٹھہری رہو۔
(الأحزاب۔آیت33)
اس آیتِ کریمہ سے معلوم ہوا کہ عورت کا اصل مقام گھرہی ہے، لہٰذا اس کا بلا ضرورت گھر سے باہر نکلنا نظرِ شرع میں ناپسندیدہ عمل ہے۔
اسی طرح یہ اصولِ شرع بھی یاد رہے کہ بیوی پر اپنے شوہر کی اطاعت لازم قرار دی گئی ہے (بشرط یہ کہ وہ اطاعت کسی گناہ کے کام میں نہ ہو)کیونکہ
نبی کریم ﷺ نے فرمایا
لَوْ کُنْتُ آمِرًا أَحَدًا أَنْ یَسْجُدَ لأَحَدٍ لأَمَرْتُ الْمَرْأَۃَ أَنْ تَسْجُدَ لِزَوْجِہَا
یعنی اگر میں کسی کو حکم دیتا کہ وہ کسی کے سامنے سجدہ کرے، تو میں عورت کو حکم دیتا کہ وہ اپنے شوہر کو سجدہ کرے۔
(سنن الترمذی۔1159۔جزء2۔صفحہ456)
دلائلِ مذکورہ سے معلوم ہوا کہ عورت کااپنے شوہر(یاسرپرست) کی اجازت(یا علم میں لائے ) بغیر گھر سے نکلنا جائز نہیں
کیونکہ یہ عمل نہ صرف شوہر کی نافرمانی بلکہ خاندانی نظم میں خلل کا باعث ہے۔
البتہ اگرشوہر (وسرپرست) کی غیر موجودگی میں عورت، کسی شرعی یا اضطراری صورت (مثلاً بیماری، جان و مال کے خطرہ، یا کسی ناگزیر مجبوری) کی وجہ سے (باپردہ)گھر سے باہر جائے ،تو ایسی حالت میں بقدرِ ضرورت نکلنے کی گنجائش ہے، کیونکہ قاعدہ شرع ہے۔
الضرورات تبیح المحظورات
یعنی ناگزیر ضرورتیں، بعض ممنوعات کو جائز کر دیتی ہیں۔
چنانچہ ایسی صورت میں عورت پرشرعاً کوئی گناہ ومؤاخذہ نہیں۔
(الاشباہ والنظائر۔جلد1۔صفحہ73)
اسی طرح دیگر عرفی و ضروری امورکے سبب ،اگر کوئی عورت گھر سے باہر نکلے ،تو اس کا یہ عمل شرعاً گناہ یا معصیت کے زمرے میں نہیں آئے گا، بشرطیکہ پردہ، وقار اور حدودِ شرع کا لحاظ رکھا جائے، مثلاً:۔
بچوں کو اسکول یا مدرسہ سے لانا لے جانا۔
بیمار پڑوسی یا رشتہ دار کی عیادت کے لیے جانا۔
گھر کی ضرورت کی اشیاء (جیسے دودھ، دوائی یا سبزی وغیرہ) خریدنے کے لیے باہر جانا،وغیرہ
کیونکہ یہ ایسے امور ہیں جو عرفاً معہود و معمول ہیں، یعنی معاشرتی طور پر ان کا کرنا عام طور پررائج و تسلیم شدہ سمجھا جاتا ہے، لہٰذا اگر عورت ان (امور) میں شوہر کی صراحتاً اجازت کے بغیر نکلے ، تو شرعاً قابلِ مواخذہ نہیں، بشرطیکہ وہ پردے، عفت، اور حدودِ شرع کا مکمل لحاظ رکھے۔

کتبہمفتی محمد عابد اقبال
واللہ ورسولہ اعلم بالصواب

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *