مسئلہ نمبر 97

ہم نے سنا ہے کہ پانی کو بیچنا صحیح نہیں،کیونکہ یہ اللہ تعالیٰ کی نعمت ہے اس پر سب کا حق ہوتاہے ، لیکن اس کے باوجود ہم یہ دیکھتے ہیں کہ بیشمار لوگ فلٹر کے نام پر اس کا کاروبار کر رہے ہیں، کیا ان کی کمائی جائز ہے ؟ ان کے بارے میں شریعت کیا کہتی ہے۔
 الجواب بتوفیق اللہ الوہاب
جواب سے قبل یہ حدیثِ مبارکہ پیش نظر رہے
نبی کریم ﷺ فرماتے ہیں
الْمُسْلِمُونَ شُرَکَاء ُ فِی ثَلَاثٍ فِی الْمَاء ِ وَالْکَلَإِ وَالنَّارِ، وَثَمَنُہُ حَرَامٌ ، قَالَ أَبُو سَعِیدٍ یَعْنِی الْمَاء َ الْجَارِیَ
یعنی تین چیزوں میں سارے مسلمان شریک ہیں،پانی، گھاس اور آگ اور ان کی قیمت لینا حرام ہے ۔حضرتِ ابوسعید رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ پانی سے مراد بہتا پانی ہے۔
(سنن ابن ماجہ۔جزء2۔صفحہ826۔حدیث2472)
یعنی مرادِ رسول ﷺ یہ ہے کہ غیر آباد وغیر مملوکہ زمین (یعنی ایسی زمین کہ جس پر کسی کی بھی ملیکت ثابت نہ ہوتی ہو) پر اگنے والی گھاس، پانی اور آگ(مراد وہ چیزیں کہ جن سے آگ حاصل کی جاتی ہو، جیسے لکڑی وغیرہ) میں تمام مسلمان شریک ہیں،یہ اللہ تعالیٰ کی ایسی نعمتیں ہیں کہ ان میں تمام ہی انسان شریک ہوتے ہیں، کسی کو ان پر اجارہ داری یا ملکیت قائم کرنے کی اجازت نہیں۔
چنانچہ اگر کوئی شخص اس قسم کے غیر مملوکہ جگہ پر موجود پانی (وغیرہ) کو روک کر اپنی ملکیت بنا لے اور پھر اسے فروخت کرے،تو اس کا یہ عمل و کمائی جائز نہیں ، اس کے برعکس اگر کوئی مذکورہ چیزوں (جیسے پانی)کو ٹینک،کین،برتن وغیرہ میں محفوظ کرلے، تو اب وہ جمع کرنے والے کی ملک قرار پائے گا، چنانچہ اب اس کابیچنا بالکل جائز ہے ۔
مجمع الانہر شرح ملتقی الابحر میں ہے
وَمَا أُحْرِزَ مِنْ الْمَاء ِ بِحَبٍّ وَکُوزٍ وَنَحْوِہِ لَا یُؤْخَذُ إلَّا بِرِضَی صَاحِبِہِ وَلَہُ) أَیْ لِصَاحِبِ الْمَاء ِ الْمُحْرَزِ (بَیْعُہُ) أَیْ بَیْعُ الْمَاء ِ لِأَنَّہُ مَلَکَہُ بِالْإِحْرَازِ وَصَارَ کَالصَّیْدِ إذَا أَخَذَہُ
اور جو پانی مٹکے..برتن…یا… اس جیسے کسی ظرف (برتن وغیرہ) میں محفوظ کیا جائے، تو اسے صرف مالک کی رضا سے لیا جائے گا، اور اس کا حق مالک کے لیے ہے۔ یعنی محفوظ پانی کے مالک کے لیے اس کی فروخت جائز ہے، کیونکہ اس نے اسے احراز کر کے ملکیت میں حاصل کر لیا، اور یہ(مسئلہ) شکار کی مثل ہے کہ جب کوئی اسے پکڑ لے (تو وہ اس شکار کا مالک بن جاتاہے )
(جزء2۔صفحہ563)
اس تمام گفتگو سے ثابت ہوتا ہے کہ ہمارے معاشرے میں رائج مذکورہ کاروبار عین مطابق شرع ہے، کیونکہ اس میں قدرتی پانی پر قبضہ یا غیر شرعی تصرف نہیں کیا جاتا، بلکہ ابتداً پانی کو کسی ذریعے سے اپنی ملکیت میں شامل کیا جاتا ہے، اور پھر محنت، صفائی، فلٹریشن اور دیگر اقدامات کے ذریعے اس کی فروخت کی جاتی ہے۔ لہٰذا اس کی آمدنی بھی مکمل طور پر حلال و طیب ہے۔

کتبہمفتی محمد عابد اقبال
واللہ ورسولہ اعلم بالصواب

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *