کیا خواتین کو زیور پہننا ضروری ہے،اگر کوئی خاتون زیور پہننا پسند نہ کرتی ہو تو کیا وہ گناہگار ہوگی؟
الجواب بتوفیق اللہ الوہاب
شریعتِ اسلامیہ نے عورت اور مرد ، دونوں کے لیے علیحدہ علیحدہ فطری مزاج و کردار مقرر فرمائے ہیں۔مرد کے لیے وجاہت، قوت، وقار اور اعتدال کے ساتھ زینت اختیار کرنا ، جبکہ عورت کے لیے حیا، نرمی اور فطری زینت اختیار کرنا اس کے مزاج و جمال کا حصہ ہے۔یہی وجہ ہے کہ قرآن و سنت میں زینت اختیار کرنے کی نہ صرف اجازت، بلکہ اس کی ترغیب و تعلیم بھی دی گئی ہے ۔
اللہ تعالیٰ فرماتاہے
اَوَ مَنْ یُّنَشَّؤُا فِی الْحِلْیَۃِ
کیا وہ جو زیور میں پروان چڑھے۔
(سورۃ الزخرف ۔آیت18)
اسی طرح رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم فرماتے ہیں
أُحِلَّ الذَّہَبُ وَالْحَرِیرُ لِلْإِنَاثِ مِنْ أُمَّتِی، وَحُرِّمَ عَلَی ذُکُورِہَا
یعنی میری امت کی عورتوں کے لیے سونا اور ریشم حلال کیا گیا ہے، اور مردوں پر حرام کیا گیا ہے۔
(مسنداحمد۔حدیث19503۔جزء32۔صفحہ259)
دلائلِ مذکور سے معلوم ہوا کہ عورت کے لیے زیور پہننا نہ صرف جائز،بلکہ اس کی فطرت اور نسوانی حسن و وقار کے عین مطابق ہے۔لہذاعورت ،ضرور اس فعل مستحسن پر عمل کرے ۔تاہم یہ بات بھی یاد رکھیں کہ قدرت و استطاعت کے باوجود،خود کو بے زینت رکھنا مکروہ وممنوع ہے کیونکہ رحمتِ دوعالم ﷺ عورتوں کے بے زینت رہنے کو ناپسند فرماتے تھے۔
نہایہ لابن اثیر میں ذکر ہے
أَنَّہُ کَانَ یَکْرہ تَعَطُّرَ النساء ِ وَتَشَبُّہَہُنَّ بِالرِّجَالِ أَرَادَ العِطْرَ الَّذِی یَظْہَرُ ریحُہ کَمَا یظہرُ عِطْر الرِّجال. وَقِیلَ: أَرَادَ تعطُّل النساء ِ، بِاللَّامِ، وَہِیَ الَّتِی لَا حَلْیَ عَلَیْہَا وَلَا خِضابَ. وَاللَّامُ والراء ُ یَتعاقَبان
یعنی بے شک وہ ( یعنی نبی کریم ﷺ) خواتین کے خوشبو لگانے کو اورمردوں سے مشابہت اختیار کرنے کو ناپسند فرماتے تھے۔یعنی اس سے مراد وہ خوشبو ہے جس کی خوشبو ظاہر ہو، جیسے مردوں کی خوشبو ظاہر ہوتی ہے۔ اور بعض نے کہا کہ اس سے مراد تعطُّلُ النساء (لام کے ساتھ) ہے، یعنی وہ عورت جو زیور نہیں پہنتی اور نہ خضاب (مہندی) لگاتی ہے۔اور عربی زبان میں لام اور راء (یعنی "تعطّر" اور "تعطّل") ایک دوسرے کے بدلے میں آجاتے ہیں۔
(جزء3۔صفحہ256)
بلکہ ام المومنین حضرتِ عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا ، عورت کے بے زیور نماز پڑھنے کو مکروہ جانتی اور فرماتی''کچھ نہ پائے تو ایک ڈوراہی گلے میں باندھ لے۔جیساکہ
بلکہ سنن الکبریٰ للبیہقی میں ہے
فِی حَدِیثِ عَائِشَۃَ أَنَّہَا کَرِہَتْ أَنْ تُصَلِّیَ الْمَرْأَۃُ عَطَلًا وَلَوْ أَنْ تُعَلِّقَ فِی عُنُقِہَا خَیْطًا
یعنی ام المؤمنین حضرتِ عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے منقول ہے کہ آپ عورت کا بے زیور نماز پڑھنا مکروہ جانتی اور فرماتی''کچھ نہ پائے تو ایک ڈوراہی گلے میں باندھ لے۔
(سنن الکبریٰ للبیہقی۔حدیث3267۔جلد2۔صفحہ332)
لہٰذا معلوم ہوا کہ نظرِ شرع میں بالکلیہ بے زینت رہنا مکروہ و ناپسندیدہ عمل ہے، لہذا عورت،اپنی قدرت و استطاعت کے مطابق ضرور زینت اختیار کرے۔تاہم یہ بات بھی ضروریاد رکھی جائے کہ
جہاں کہیں بھی زینت اختیار کرنے کی تعلیم و ترغیب دی گئی ہے اس سے مراد حدودِ شرع میں رہ کر زینت اختیار کرنا ہے یعنی یہ زینت صرف شوہر اور محارم کے سامنے ہو،غیر محرم مردوں کے سامنے زینت کا اظہار یا اس کی نمائش سخت ممنوع اور حرام ہے۔کیونکہ
اللہ تعالیٰ ارشادفرماتاہے
وَ قُلْ لِّلْمُؤْمِنٰتِ یَغْضُضْنَ مِنْ اَبْصَارِہِنَّ وَ یَحْفَظْنَ فُرُوْجَہُنَّ وَ لَا یُبْدِیْنَ زِیْنَتَہُنَّ اِلَّا مَا ظَہَرَ مِنْہَا وَ لْیَضْرِبْنَ بِخُمُرِہِنَّ عَلٰی جُیُوْبِہِنَّ-وَ لَا یُبْدِیْنَ زِیْنَتَہُنَّ اِلَّا لِبُعُوْلَتِہِنَّ اَوْ اٰبَآیہِنَّ اَوْ اٰبَآء ِ بُعُوْلَتِہِنَّ اَوْ اَبْنَآیہِنَّ اَوْ اَبْنَآء ِ بُعُوْلَتِہِنَّ اَوْ اِخْوَانِہِنَّ اَوْ بَنِیْۤ اِخْوَانِہِنَّ اَوْ بَنِیْۤ اَخَوٰتِہِنَّ اَوْ نِسَآیہِنَّ اَوْ مَا مَلَکَتْ اَیْمَانُہُنَّ اَوِ التّٰبِعِیْنَ غَیْرِ اُولِی الْاِرْبَۃِ مِنَ الرِّجَالِ اَوِ الطِّفْلِ الَّذِیْنَ لَمْ یَظْہَرُوْا عَلٰی عَوْرٰتِ النِّسَآء ِ-وَ لَا یَضْرِبْنَ بِاَرْجُلِہِنَّ لِیُعْلَمَ مَا یُخْفِیْنَ مِنْ زِیْنَتِہِنَّ-وَ تُوْبُوْۤا اِلَی اللّٰہِ جَمِیْعًا اَیُّہَ الْمُؤْمِنُوْنَ لَعَلَّکُمْ تُفْلِحُوْن
اور(اے محبوب ﷺ) مسلمان عورتوں کو حکم دو (کہ)اپنی نگاہیں کچھ نیچی رکھیں اور اپنی پارسائی کی حفاظت کریں اور اپنا بناؤ نہ دکھائیں مگر جتنا خود ہی ظاہر ہے اور دوپٹے اپنے گریبانوں پر ڈالے رہیں اور اپنا سنگھار ظاہر نہ کریں مگر اپنے شوہروں پر یا اپنے باپ یا شوہروں کے باپ یا اپنے بیٹے یا شوہروں کے بیٹے یا اپنے بھائی یا اپنے بھتیجے یا اپنے بھانجے یا اپنے دین کی عورتیں یا اپنی کنیزیں جو اپنے ہاتھ کی مِلک ہوں یا نوکر بشرطیکہ شہوت والے مرد نہ ہوں یا وہ بچے جنہیں عورتوں کی شرم کی چیزوں کی خبر نہیں اور زمین پر پاؤں زور سے نہ رکھیں کہ جانا جائے ان کا چھپا ہوا سنگار اور اللہ کی طرف توبہ کرو اے مسلمانو سب کے سب اس امید پر کہ تم فلاح پاؤ۔
(النور۔آیت31)
