مسئلہ نمبر 99

اگرکوئی شخص لوگوں کو ہنسانے کے لئے یا اپنی طرف مائل کرنے کے لئے کوئی ایسا جملہ کہے جو اللہ تعالیٰ کی شان کے لائق نہ ہو یا فرشتوں کی تحقیر ہو رہی ہو یا اسلامی کسی بھی شعائر کی اس میں توہین ہو رہی ہو، یا کوئی بھی ایسا جملہ کہ جس سے کفر کا حکم لاگوہوتاہو، تو ایسی صورت میں یہ جملہ سن کر اگر کوئی بے اختیار ہنس دے تو کیا اس پر بھی حکمِ کفرلاگو ہوگا؟؟؟
 الجواب بتوفیق اللہ الوہاب
ہر وہ جملہ جو اللہ تبارک وتعالیٰ،ملائکہ،شعائر اسلام کی توہین و تحقیر پر مشتمل ہو،بالیقین کفر اور دین اسلام سے خروج کا باعث ہے۔
فتاویٰ عالمگیری میں ہے
یکفر إذا وصف اللہ تعالی بما لا یلیق بہ، أو سخر باسم من أسماۂ، أو بأمر من أوامرہ، أو نکر وعدہ ووعیدہ، أو جعل لہ شریکا، أو ولدا، أو زوجۃ، أو نسبہ إلی الجہل، أو العجز، أو النقص ویکفر بقولہ یجوز أن یفعل اللہ تعالی فعلا لا حکمۃ فیہ ویکفر إن اعتقد أن اللہ تعالی یرضی بالکفر
یعنی جب کوئی شخص اللہ تعالیٰ کی ایسی صفت بیان کردے،کہ جو اس کی شان کے لائق نہ ہو… یا… اس کے اسماء میں سے کسی اسم کا مذاق اڑائے…یا…اس کے احکام میں سے کسی حکم کا مذاق اڑائے…یا… اس کے وعد اور وعید کا انکار کرے… یا…اس کا شریک مانے…یا…اس کا بیٹا مانے…یا…اس کی بیوی مانے…یا… اس کی طرف جہل کی نسبت کرے…یا… عجز و نقص کی نسبت کرے،تو اس کو کافر قرار دیاجائے گا اور جب وہ کہے،کہ اللہ تعالیٰ کے فعل میں کوئی حکمت نہیں ہے،تو اس کو کافر قرار دیا جائے گا اور اگر یہ اعتقاد رکھے کہ اللہ تعالیٰ کفر سے راضی ہوتا ہے،تب بھی اس کو کافر قرار دیا جائے گا۔
(جز2۔صفحہ258۔مکتبۃالشاملۃ)
چنانچہ کہنے والے پر توبہ و تجدید ایمان فرض ہے۔
اس وضاحت کے بعد، یہ بھی یاد رہے کہ جملہ کفر سن کر ہنسنابھی کفر پر راضی ہونے کی دلیل ہے،لہذاسننے والے پر بھی توبہ و تجدید ایمان لازم ہے
اعلیٰ حضرت علیہ الرحمۃ ”اعلام بقواطع الاسلام“کے حوالے سے نقل فرماتے ہیں
من تلفظ بلفظ کفر یکفر وکذا کل من ضحک او استحسنہ اورضی بہ یکفر
یعنی جس نے کلمہ کفر بولا اس کو کافر قرار دیا جائے گا،یونہی جس نے اس کلمہ کفر پر ہنسی کی..یا..اس کی تحسین کی اور اس پر راضی ہوا اس کو بھی کافر قرار دیا جائے گا۔
(فتاویٰ رضویہ۔جلد11۔صفحہ381۔مطبوعہ رضافاؤنڈیشن)
تاہم یہ بات ضرور یاد رہے کہ مذکورہ حکم ،فقط ارادتاً ہنسنے پرموقوف ہے،یعنی ہنسنے والے کومعلوم ہو،کہ یہ جملہِ کفر ہے اورتب وہ ہنسے،تو ہی اس پر حکمِ کفر ہوگا، بصورت دیگریعنی اگر کسی کی بے اختیار ہنسی نکل جائے،تو وہ اس حکم میں داخل نہیں تاہم احتیاطا ًتجدید ایمان کرلیا جائے
منح الروض میں ہے
لوضحک علیٰ وجہ الرضا ممن تکلم بالکفر واما اذا ضحک لا علیٰ وجہ الرضا،بل بسبب ان کان الکلام الموجب الکفر عجیبا غریبا یضحک السامع ضرورۃ فلایکفر۔
یعنی اگرقولِ کفر سن کر ہنسنا رضامندی کے ساتھ ہو،توکفرہوگا،لیکن اگررضامندی کے ساتھ نہ ہوبلکہ کلام کے عجیب وغریب ہونے کی بناء پرہنسنا،تواب کفرنہیں۔
(منح الروض۔صفحہ426۔مطبوعہ دارالبشائرالااسلامیہ)

کتبہمفتی محمد عابد اقبال
واللہ ورسولہ اعلم بالصواب

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *