کیا روزِ حشر،نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے علاوہ بھی کوئی شفاعت کرے گا؟
الجواب بتوفیق اللہ الوہاب
جی ہاں!نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے علاوہ بھی کئی طبقات و اشخاص شفاعت فرمائیں گے،چنانچہ
جناب احمدمختار صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان رحمت ہے
یشفع یوم القیامۃ ثلاثۃ الأنبیاء ثم العلماء ثم الشہداء
یعنی قیامت کے دن تین گروہ شفاعت کریں گے،انبیاء،علماء پھر شہداء۔
(سنن ابن ماجہ۔رقم الحدیث4313۔جزء2۔صفحہ1443)
نیز نہ صرف طبقات مذکورہ کو شفاعت کااختیار دیاجائے گا،بلکہ ان کے علاوہ بھی دیگر کئی لوگ شفاعت کریں گے،چنانچہ چندایک کا ذکرکیا جارہاہے
حضرت عبداللہ بن عمرورضی اللہ عنہما بیان فرماتے ہیں
أن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم قال الصیام والقرآن یشفعان للعبد
یعنی رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا،روزہ اور قرآن قیامت کے دن بندے کی شفاعت فرمائیں گے۔
(مشکوٰۃ المصابیح۔باب کتاب الصوم۔حدیث 1963)
نیز حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں
قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم من قرأ القرآن واستظہرہ فأحل حلالہ وحرم حرامہ أدخلہ اللہ بہ الجنۃ وشفعہ فی عشرۃ من أہل بیتہ کلہم قد وجبت لہ النار
یعنی نبی رحمت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جس نے قرآن کریم پڑھااور پڑھ کراسے یاد کیا،اس کے حلال کو حلال اور حرام کو حرام جانا،اللہ تعالیٰ اسے اس کی برکت سے جنت میں داخل فرمائے گا اور اس کے خاندان سے ایسے لوگوں کے بارے میں اس کی شفاعت قبول فرمائے گا کہ جن پر جہنم واجب ہوچکی ہو۔
(سنن ترمذی۔حدیث 2905)
اسی طرح حضرت ابوسعیدخدری رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی ہے
أن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم قال إن من أمتی من یشفع للفئام من الناس ومنہم من یشفع للقبیلۃ ومنہم من یشفع للعصبۃ ومنہم من یشفع للرجل حتی یدخلوا الجنۃ
یعنی نبی آخرالزماں صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایاکہ میری امت میں سے بعض لوگ ایک گروہ کی،بعض ایک قبیلہ کی،بعض ایک جماعت اور کچھ لوگ ایک شخص کی شفاعت کریں گے یہاں تک کہ وہ جنت میں داخل ہوجائیں گے
(ترمذی۔حدیث 2440)
حاصل کلام یہ ہے کہ روز محشر باذن باری تعالیٰ، کئی طبقات کوشفاعت کا ختیاردیا جائے گا۔جیساکہ ماقبل گزرا۔
نیز اسی (شفاعت) سے متعلق جب اعلیٰ حضرت علیہ الرحمۃ سے سوال کیاگیا،تو آپ نے فرمایا
شہید پچاس کی، حاجی ستر کی اور علماء بے گنت لوگوں کی شفاعت کریں گے،حتیٰ کہ عالم کے ساتھ جن لوگوں کو کچھ بھی تعلق ہو گا، اس کی شفاعت کریں گے۔ کوئی کہے گا کہ میں نے وضوکے لئے پانی دیا تھا، کوئی کہے گا میں نے فلاں کام کردیا تھا، لوگو ں کا حساب ہوتا جائے گا اور وہ جنّت کو بھیجے جائیں گے، علما کا حساب کب کا ہوچکا ہوگا اور وہ روکے جائیں گے۔ عرض کریں گیں،الہٰی لوگ جارہے ہیں ہم کیوں روکے گئے ہیں؟…فرمایا جائے گاتم آج میرے نزدیک فرشتوں کی مانند ہو،شفاعت کرو کہ تمہاری شفاعت سے لوگ بخشے جائیں۔ ہرسنی عالم سے فرمایا جائے گا اپنے شاگردوں کی شفاعت کر اگرچہ آسمان کے ستاروں کے برابر ہوں۔
(حوالہ ملفوظات اعلیٰ حضرت۔صفحہ92)
