مسئلہ نمبر 120

دیکھا گیا ہے کہ جب کبھی شدیدطوفان یا آندھی آجائے تو کچھ لوگ اذان دینے لگ جاتےہیں اور کبھی مساجد سے بھی اذان کی صداء بلند ہوتی ہے کیا یہ جائز ہے ؟یعنی نماز کے علاوہ کے لئے اذان دینا جائز ہے؟ الجواب بتوفیق اللہ الوھاب اذان، ذکرِ الٰہی ہے اور اللہ کا ذکر ہمیشہ ہر جگہ محبوب ومرغوب ،مطلوب ومندوب ہے ،لہذااس سے ہرگز ممانعت نہیں ہوسکتی، (جب تک کہ کسی خاص خصوصیت سے شرعی ممانعت نہ آئی ہو ) لہذا معلوم ہواکہ آندھی، طوفان،وباء و بلیات کے وقت اذان کہنا بالکل جائز ثابت ہوا۔
نبی کریم ﷺ فرماتے ہیں کہ وَمَا مِنْ شَيْءٍ أَنْجَى مِنْ عَذَابِ اللهِ مِنْ ذِكْرِ اللهِ اور ذکر الہٰی سے زیادہ کوئی شے اللہ تعالٰی کے عذاب سے چھڑانے والی نہیں۔
(شعب الایمان۔حدیث519۔المکتبۃ الشاملۃ) اسی طرح قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ فرماتاہے أَلَا بِذِكْرِ اللَّهِ تَطْمَئِنُّ الْقُلُوبُ سن لو! اللہ تعالٰی کے ذکر ہی سے دلوں کو چین واطمینان نصیب ہوتاہے
(سورۃ الرعد۔آیت 28)

کتبہمفتی محمد عابد اقبال
واللہ ورسولہ اعلم بالصواب

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *