مجھے یہ معلوم کرنا ہے کہ قبر پر ، مزار پر جو چادر ڈالی جاتی ہے اس کی شرعی حیثیت کیا ہے؟ کیا یہ سنت سے ثابت ہے؟ کیا قبر پر چادر ڈالنا لازم و ضروری ہے ؟ اگر ضروری ہے تو کس حد تک ڈالی جائے، اور چادر چڑھانے کی منت کا بھی بتائیں۔
الجواب بتوفیق اللہ الوھاب
قبل اس کے کہ ہم قبرومزار پر چادر چڑھانے کی شرعی حیثیت کا تعیین کریں اولاً یہ ضرور یاد رہے کہ جس طرح کعبۃ اللہ شریف پر غلاف چڑھایاجاتاہے تاکہ اسے عام مسجدوں میں شمار نہ کیا جائے، جس طرح قرآن مجید پر غلاف چڑھایا جاتا ہے تاکہ اسے عام کتابوں میں شمار نہ کیا جائے،اسی طرح مزارات پر چادر چڑھائی جاتی ہے، تاکہ ان کی قبور کو عام لوگوں کی قبور سے ممتاز کیا جاسکے ۔اس وضاحت کے بعد ، درج ذیل حدیث ِ کریمہ ضرور یاد رکھی جائے تاکہ اس فعل ِ مستحسن پرکسی بھی قسم کااعتراض باقی نہ رہے،چنانچہ
نبی کریم ﷺ فرماتے ہیں
ارْتَبِطُوا الْخَیْلَ، وَامْسَحُوا بِنَوَاصِیہَا وَأَعْجَازِہَاأَوْ قَالَ أَکْفَالِہَا وَقَلِّدُوہَا وَلَا تُقَلِّدُوہَا الْأَوْتَارَیعنی گھوڑا پالو اور اس کی پیشانی کے بالوں اور ان کی پچھاڑی یا فرمایا ان کی سیرین پر ہاتھ پھیرو اور انہیں ہار پہناؤ اور تانت کے ہار نہ پہناؤ۔
(سنن ابوداؤد۔رقم الحدیث2553۔جلد3۔صفحہ24)
اس حدیث کریمہ میں نبی کریم ﷺنے گھوڑے کو ہار پہنانے کا حکم ارشاد فرمایاہے اوریہ حقیقت بھی کسی سے مخفی نہیں کہ زمانہ نبوی ﷺ میں دین مبین کی فتح و کامرانی کے اسباب میں ایک سبب ،آلہ جہادیعنی گھوڑا بھی تھااور چونکہ یہ تقویت دین کا ذریعہ وسبب تھا، لہذا اسے مزین کیا جانا یقینی امرتھا،چنانچہ
اس حدیث کریمہ کی شرح میں شارحین حدیث نے یہ نتیجہ اخذ فرمایاکہ
جو بھی شے ء دین کی تقویت کا ذریعہ وسبب بنے، اس کو مزین کرنا سنت سے ثابت ہے، جیسے:مسجدیں سجانا،قرآن مجید پر اعلیٰ غلاف چڑھانا،علماء کا اچھا لباس پہننا،کعبہ معظمہ کو قیمتی غلاف پہنانا،روضہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم پر شاندار پردے ڈالناوغیرہ ،اسی طرح بزرگوں کی خانقاہوں اور اولیاء اللہ کے مزارات پر زینت کرنا،مزارات اولیاء پر چادر ڈالنا سب کچھ اسی لیے ہے کہ ان سے دین کی شان ہے یہ سب چیزیں اس حدیث سے بھی ماخوذ ہیں
(مراۃ المناجیح۔جلد5۔صفحہ775)
مذکورہ کلام سے معلوم ہواکہ چونکہ اولیاء وعلماء و صالحین کے مزاروں سے رونق دین وابستہ ہوتی ہے، لہذا ان بابرکت ہستیوں کی قبور پر بغرض اظہارِ عظمت چادر ڈالنا،جائز ومحمود ہے۔
نیز یہ بھی حقیقت ہے کہ جب تک ظاہری تزک واحتشام نہ ہو، عوام کی نظر میں، ان صاحبانِ قبور کی پوری وقعت نہیں آتی اور لوگ ان کے فیوض و برکات سے مستفید نہیں ہوتے،لہذا ضرور ان کی قبور پر چادر چڑھا ئی جائے،تاکہ لوگوں کے قلوب میں ان صاحبانِ قبور کی عظمت بھی پیدا ہو اور جوق در جوق حاضر ہوکر اپنے قلوب کوان کے فیض سے منور کریں۔
اسی بات کو علامہ ابن عابدین علیہ الرحمۃ بیان فرماتے ہیں کہ
إذَا قَصَدَ بِہِ التَّعْظِیمَ فِی عُیُونِ الْعَامَّۃِ حَتَّی لَا یَحْتَقِرُوا صَاحِبَ الْقَبْرِ، وَلِجَلْبِ الْخُشُوعِ وَالْأَدَبِ لِلْغَافِلِینَ الزَّائِرِینَ، فَہُوَ جَائِزٌ لِأَنَّ الْأَعْمَالَ بِالنِّیَّاتِجب (اولیاء و صالحین کی قبور پرچادر وغیرہ ڈالنے سے )مقصودیہ ہو کہ صاحب مزار کی عظمت و رفعت ،عوام کی نظروں میں پیدا ہو اور غافل زائرین میں خشوع و خضوع،ادب پیدا ہو (اور ان سے فیوض و برکات حاصل کریں اور وہاں باادب حاضر ہو کر فاتحہ خوانی کریں۔) تو یہ (یعنی چادر چڑھانا)جائز ہے، کیونکہ اعمال کا مدار نیتوں پر ہے۔
( ردالمحتار۔جلد6۔صفحہ363)
البتہ !عوام کی قبور سے چونکہ رونق دین وابستہ نہیں ہوتی، لہذاان پراس قسم کے تکلفات نہ کیے جائیں کہ یہ محض عبث(لغو) ہیں لہذا بچنے کا حکم ہے،۔خواص یعنی علماء و صلحاء کی قبور پر چادر ڈالنے سے بیشمار دینی فوائد کا حصول ممکن ہے،لہذا ان کی قبر پر چادر ڈالنا بالکل جائز ہے۔ نیز یہ بات بھی لائق توجہ ہے کہ چادر ڈالنے سے مراد ہرگز یہ نہیں ہے کہ یکے بعد دیگرے ،چادر پر چادر ڈالی جاتی رہے۔ بلکہ بطور نشانی وتعظیم و توقیر ،فقط ایک چادر ہی کافی ہے تاوقتیکہ کوئی چادر خراب نہ ہو..یا..پرانی نہ ہو،چنانچہ
امام اہلسنت امام احمد رضا خان محدث بریلی علیہ الرحمہ سے مزارات پر چادر چڑھانے کے متعلق دریافت کیا گیا،تو آپ نے ارشاد فرمایاکہ
جب چادر موجود ہو اور ہنوز پرانی یا خراب نہ ہوئی کہ بدلنے کی حاجت ہو تو بیکار چادر چڑھانا فضول ہے بلکہ جو دام اس میں صرف کریں اﷲ تعالیٰ کے ولی کی روح مبارک کو ایصال ثواب کے لئے محتاج کو دیں ۔
(احکام شریعت حصہ اول صفحہ 50)
لیکن آج ہمارے معاشرے میں یہ صورت رائج ہوگئی ہے کہ بلاضرورت بھی، چادر پر چادر چڑھائی جاتی ہے، بلکہ حیرت و تعجب کی بات تو یہاں تک ہے کہ اب تو لوگ مزار پر چادر چڑھانے کی منت مانتے ہیں اور اپنے کام کی تکمیل پر چادر چڑھاتے بھی ہیں،جبکہ حقیقتاًنہ ہی یہ شرعی منت ہے نہ اسے پورا کرنا واجب۔بلکہ یہ عرفی منت ہے، اسے ہمارے عرف میں منت سے موسوم کیا جاتا ہے۔
جب اسی حوالے سے امامِ اہلسنت علیہ الرحمۃ سے سوال کیا گیا تو آپ علیہ الرحمۃ نے فرمایا
یہ منت کوئی شرعی نہیں اذلیس من جنسہ واجب (اس لیے کہ اس کی جنس سے کوئی واجب نہیں ) ہا ں پھول چڑھانا حسن ہے کماتقدم (جیسا کہ گزرچکا ۔) اور قبور اولیائے کرام قدسنا اﷲ باسرارہم پر چادر بقصد تبریک ڈالنا مستحسن ہے ۔
(فتاویٰ رضویہ۔جلد9۔صفحہ533)
خلاصہ کلام یہ ہے کہ خواص یعنی علماء و صلحاء کی قبور پر فقط ایک چادر چڑھانامستحسن ،عوام کی قبر پر عبث،یعنی لغو ہے جبکہ اس کی منت ماننے کی شرعا ً کوئی حقیقت نہیں۔
