مسئلہ نمبر 119

میرا سوال یہ ہے کہ خواتین کس طرح کے لباس میں نماز پڑھے؟ یعنی ان کا کتنا بدن چھپانا ضروری ہے؟..براہ مہربانی ہمیں حوالہ ضرور دیجئے گا کیونکہ میں یہاں اپنے بڑوں کو صحیح ستر عورت بتاتا ہوں،تو وہ کہتے ہیں کہ کہاں لکھا ہے؟...ہم تو شروع سے ایسا پڑھ رہے ہیں۔
الجواب بتوفیق اللہ الوھابجواب سے قبل یہ بات ذہن نشین رکھی جائے کہ کسی بھی عمل پرہمیشگی اختیارکرنااس کےدرست ..یا..غلط ہونے کی دلیل نہیں،بلکہ اصل معیار یہ ہے کہ وہ عمل و فعل ، شریعت کے احکام کے عین مطابق ہو۔
لہذا صورت مسؤلہ میں ذکرکردہ افراد کانماز کے سلسلے میں ستر عورت کا انکار ، یقینا ان کی کم علمی و جہالت پر دلالت کرتا ہے ۔ان پر لازم ہے کہ وہ اس عمل قبیح سے باز آئے ۔
اس وضاحت کے بعد یاد رہے کہ عورت کے ستر سے متعلق کئی احادیث کریمہ موجود ہیں ،چنانچہ طوالت کے پیش نظرمحض درج ذیل حدیث کریمہ پر اکتفاء کیا جاتا ہے،
نبی کریم ﷺ ارشاد فرماتے ہیں کہ
ان الجاریۃ اذا حاضت لم یصلح ان یریٰ منہا الا وجہہا ویدہا الی المفصل:یعنی جب لڑکی بالغہ ہوجائے،تو اس کے چہرے اور ہاتھ(پہنچوں تک)کے علاوہ بدن کے کسی حصے پر نظر نہ کی جائے۔
(مراسیل لابی داؤد۔رقم الحدیث437۔جزء1۔صفحہ310۔المکتبۃ الشاملۃ) مذکورہ حدیث کریمہ میں چہرے اور ہاتھ کا استثنا ء ذکرکیا گیاہے اور یہ یقینی بات ہے کہ ضروریات زندگی میں نہ صرف ان دونوں اعضاء کااظہار ہوتاہے،بلکہ کام کاج ولین دین وغیرہ کے سلسلے میں بھی ان کے بغیر زندگی گزارنا قریباً ناممکن ہوتا ہے،چنانچہ ان ہی ضروریات کو پیش نظر رکھتے ہوئے،مزاجِ شرع کی روشنی میں علماٰ اسلام نے قیاساً قدموں کا بھی استثناء فرمایاہے ۔
مراقی الفلاح شرح نورالایضاح میں ذکر ہے
وجمیع بدن الحرۃ عورۃ إلا وجہہا وکفیہا وقدمیہا: یعنی آزاد عورت کا اپنے چہرے،ہاتھوں اور قدموں کے علاوہ سارا بدن ستر میں داخل ہے۔
(جزء1۔صفحہ91۔المکتبۃ الشاملۃ) دلائلِ مذکور سے معلوم ہواکہ عورت کا اپنے چہرے،ہاتھوں اور قدموں کے علاوہ سارا بدن ستر میں شمارکیا گیا ہے،لہذانمازکی ادائیگی میں ان کی رعائت کرنا بھی لازم ہے،بصورت ثانی نمازجائز نہیں۔یعنی اگر قبل نماز..یا..دوران نماز اعضاء ستر میں سے کسی عضو کا چوتھائی..یا..اس سے زائد کھلا رہا،تو نمازنہ ہوگی،
مراقی الفلاح شرح نورالایضاح میں ہے،
وکشف ربع عضو من أعضاء العورۃ یمنع صحۃ الصلاۃ :یعنی اعضاء ستر میں سے کسی عضو کے چوتھائی حصے کا ظاہر ہوناصحت نمازکی راہ میں مانع ہے۔
(جزء1۔صفحہ91۔المکتبۃ الشاملۃ)

کتبہمفتی محمد عابد اقبال
واللہ ورسولہ اعلم بالصواب

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *