مجھے یہ مسئلہ معلوم کرنا ہے کہ میری کچھ دن پہلے ہی شادی ہوئی ہے ، اور ہم دونوں تقریبا صرف دس ،بارہ دن ہی ساتھ رہے ہیں ، لیکن ایک بات پر میری بیوی سے میرا جھگڑا ہوگیا، اور جھگڑے میں ، میں نے میسج پر یہ لکھ دیا کہ میں (نام سائل) تجھے طلاق دیتاہوں طلاق دیتا ہوں، طلاق دیتا ہوں۔ اور اس نے یہ میسج پڑھ بھی لیا، لیکن میں نے پھر اس میسج کو ڈیلیٹ کردیا۔پھر ہمارے حیدرآباد میں ایک ادارے سے رابطہ کیا گیا تو انہوں نے کہا کہ طلاق نہیں ہوئی لیکن ایک اور ادارے سے رابطہ کیا، تو انہوں نے کہا کہ طلاقیں ہو گئی ہے۔اب آپ بتائیں کہ کیا طلاق ہوگئی ہے یا نہیں؟ کیا میں دوبارہ اس کو اپنے پاس رکھ سکتا ہوں یا نہیں؟ پوری تفصیل بتائیں
الجواب بتوفیق اللہ الوہاب
صورت ِ مستفسرہ میں تینوں طلاقیں واقع ہونے کے سبب ، عورت نکاح سے خارج ہوگئی، اب بغیر حلالہ شرعی رجوع کی کوئی گنجائش نہیں۔
کیونکہ اللہ تعالیٰ فرماتاہے
فَاِن طَلَّقَہَا فَلَا تَحِلُّ لَہ مِنْ بَعْدُ حَتّٰی تَنْکِحَ زَوْجًا غَیْرَہ
یعنی پھراگر(شوہر اپنی بیوی کودوطلاق دینے کے بعد)اسے تیسری طلاق بھی دے دے،تواب اس(سابق شوہر)کے لئے حلال نہیں،یہاں تک کہ(عدت گزارنے کے بعد)وہ(یعنی مطلقہ)عورت(اپنے سابق شوہر کے علاوہ)کسی دوسرے مردسے،نکاح نہ کرلے۔
(سورۃالبقرہ:آیت230)
رحمت ِ دوعالمﷺفرماتے ہیں
اذاطلق الرجل امرأتہ ثلاثالاتحل لہ حتی تنکح زوجاًغیرہ ویذوق کل واحد منہما عسیلۃ صاحبہ
یعنی جب شوہراپنی بیوی کوتین طلاقیں دے دے،تو عورت،اس مرد پراُس وقت تک حلال نہ ہوگی،جب تک وہ کسی دوسرے مرد سے نکاح کرکے ،اُن میں سے ہرایک اپنے ساتھی کاکچھ شہدنہ چکھ لے۔
(دارقطنی۔جزء 9۔صفحہ252)
اس وضاحت کے بعد!۔ صورتِ مسؤلہ میں ،ادارہِ مذکور کے نااہل افرادکا تین طلاق کو،عدمِ طلاق قرار دینا، یقینا ان کی کم علمی اور شرعی فہم میں کوتاہی کی دلیل ہے۔ لہذا ان پر لازم ہے کہ وہ اپنی اور دیگر لوگوں کی آخرت کو تباہ وبرباد کرنے سے گریز کریں، کتاب و سنت اور فقہاء ِ امت کے متفقہ اقوال کا مطالعہ کریں، اپنی غلطی پر توبہ کریں اور آئندہ اس قسم کے نازک اور حساس مسائل میں بغیر تحقیق کے فتویٰ دینے سے سخت اجتناب کریں۔
