کچھ لوگ رات کو ناخن نہیں کاٹتے ہیں ، بلکہ اس سے منع بھی کرتے ہیں، کیا شریعت میں اس پر کوئی ممانعت ہے؟ اسی طرح ہمارے خاندان میں دیکھاگیا ہے کہ کسی مخصوص دن (جیسے پیر) کو کپڑے دھونے سے منع کرتے چلے آئے ہیں،کیا پیر کو کپڑے دھونا بھی شریعت میں منع ہے؟ براہ کرام قرآن وحدیث کی روشنی میں بتائیں کہ کیا صحیح ہے اور کیا غلط ۔
الجواب بتوفیق اللہ الوہاب
یہ لوگوں کی خودساختہ سوچ و فکر کا نتیجہ ہے جو یقینادین سے دوری و کم علمی پر دلالت کرتا ہے۔بہرحال!عمل مذکور(یعنی رات میں ناخن کاٹنا) بھی جائز ہے اورروزِ پیر کپڑے دھونا بھی جائز،کیونکہ یہ دونوں اعمال،تطہیر و نزافت پر دلالت کرتے ہیں اور صفائی اور پاکیزگی اللہ تعالیٰ کو پسند ہے جیساکہ
اللہ تعالیٰ فرماتاہے
اِنَّ اللّٰہَ یُحِبُّ التَّوَّابِیْنَ وَ یُحِبُّ الْمُتَطَہِّرِیْنَ
یعنی بیشک اللہ تعالیٰ توبہ کرنے والوں اور پاکیزہ ہونے والوں کو پسند کرتا ہے۔
(سورۃ البقرۃ۔آیت222)
اسی طرح نبی کریم ﷺ فرماتے ہیں
الطُّہُورُ شَطْرُ الْإِیمَانِ
یعنی پاکیزگی (طہارت) ایمان کا نصف حصہ ہے۔
(صحیح مسلم۔جزء1۔صفحہ203)
مزید ایک حدیث میں سرکارِ دوعالم ﷺ فرماتے ہیں
عَشْرٌ مِنَ الْفِطْرَۃِ: قَصُّ الشَّارِبِ، وَإِعْفَاء ُ اللِّحْیَۃِ، وَالسِّوَاکُ، وَاسْتِنْشَاقُ الْمَاء ِ، وَقَصُّ الْأَظْفَارِ، وَغَسْلُ الْبَرَاجِمِ، وَنَتْفُ الْإِبِطِ، وَحَلْقُ الْعَانَۃِ، وَانْتِقَاصُ الْمَاء ِ
یعنی دس باتیں فطرت (یعنی ہمیشہ سے انبیائے کرام علیہم الصلوٰۃ والسلام کی سنت) سےہیں: مونچھیں کتروانا ، داڑھی بڑھانا، مسواک کرنا، وضو وغسل میں پانی سونگھ کر اوپر چڑھانا، ناخن تراشنا، انگلیوں کے جوڑ (یعنی جہاں جہاں میل جمع ہونے کا محل ہے اسے) دھونا،بغل اور زیر ناف بالوں سے صاف کرنا شرمگاہ پرپانی ڈالنا۔
(صحیح مسلم جزء1۔صفحہ223)
حاصلِ کلام یہ ہے کہ اسلامی تعلیمات میں طہارت و نظافت (پاکیزگی اور صفائی) کو انتہائی اہمیت حاصل ہے،کیونکہ یہ ایمان کاایسا حصہ ہے کہ جو روحانی و جسمانی دونوں پہلوؤں کا احاطہ کرتا ہے۔چنانچہ
معلوم ہواکہ دن ہو یا رات، کسی بھی وقت (علاوہ حالتِ احرام)ناخن کاٹے جا سکتے ہیں۔اسی طرح کسی بھی دن کپڑے دھوئے جاسکتے ہیں۔
