مجھے طلاق کے بارے میں ایک مسئلہ معلوم کرنا ہے آج سے تقریباً 6سال پہلے ، میں ایک لڑکے کو پسند کرتی تھی وہ لڑکا بھی مجھے پسند کرتا تھا، تو لڑکے نے میرے گھر رشتہ بھجوایا، لیکن میرے گھر والوں نے اس رشتے سے انکار کردیا تھا، پھر ہم دونوں نے گھر والوں کو بتائے بغیر ہی کورٹ میرج کرلی ، اس کورٹ میرج میں ، میں تھی لڑکا تھا ، دو وکیل گواہ کی حیثیت سے تھے اور ایک مولوی صاحب تھے کہ جنہوں نے نکاح پڑھایا تھااس نکاح کے بعد، میں گھر آگئی،اور اب تک ہمارا کسی بھی قسم کا کوئی رابطہ نہیں ہوا تھا۔
لیکن کچھ عرصے بعد ہی والدین کو ہمارے نکاح کا علم ہو گیا۔پھر میرے والدین نے مجھ پر زبردستی کرتے ہوئے کورٹ میں خلع کا دعویٰ دائرکروادیا اور کورٹ نے ڈگری جاری کردی کہ آپ کا خلع ہو گیا ہے۔جب یہ بات لڑکے کو معلوم ہوئی کہ کورٹ سے خلع لیا ہے تو اس نے کہا کہ ابھی بھی تم میرے نکاح میں ہو، میں نے تم کو طلاق نہیں دی ہے۔۔میں تو تم کو ساتھ رکھنا چاہتا ہوں۔۔لیکن میرے والدین اس بات کو نہیں مان رہے ہیں، وہ کہتے ہیں کہ یہ نکاح، ولی کی اجازت کے بغیر کیاگیا تھا، لہذا نکاح ہوا ہی نہیں تھا۔اس لئے اب میرے والد صاحب ،میرا رشتہ کہیں اور کررہے ہیں، اگلے دو مہینے میں شادی بھی ہے ۔اب آپ بتائیں کہ میں کیا کروں؟؟کیا میرا نکاح ہوا تھا یا نہیں؟ کیا میں اب بھی اسی کے نکاح میں ہوں؟ کیا کورٹ کا خلع ہو گیا تھا؟گھر والے جو میرا زبردستی نکاح کسی اور سے کر رہے ہیں، کیا وہ نکاح درست ہوگا؟اگر میں وہ نکاح کرلوں، تو کیا یہ نکاح پر نکاح ہوگا؟؟
میں نے لڑکے کو بھی کہا ہے کہ وہ مجھے طلاق دے دے تاکہ میرا کہیں اور رشتہ اسلامی طور پر ہوجائے شک و شبہ باقی نہ رہے لیکن لڑکا کہتا ہے کہ میں طلاق نہیں دوں گا، تم میرے پاس آجاؤ، یعنی وہ اپنے پاس رکھنے کو تیار ہے۔اب بتائیں میں کیا کروں؟
الجواب بتوفیق اللہ الوھاب
نکاح ایک ایسا پاکیزہ بندھن ہے کہ جس کے بارے میں شریعتِ مطہرہ نے واضح اور حکیمانہ احکام بیان فرمائے ہیں، کاش اس اہم اور نازک معاملے میں ابتداً ہی شریعت کی ہدایات اور اہلِ خانہ کی رضا کو پیشِ نظر رکھا جاتا تو آج اس قدر پیچیدہ صورتِ حال درپیش نہ ہوتی۔ بہرحال دریافت کردہ مسئلہ کا شرعی حکم ملاحظہ فرمائیں۔
اولاً یہ شرعی ضابطہ یاد رکھیں کہ فقہ حنفی کے مطابق ، اگر عاقلہ بالغہ عورت،ولی کی اجازت کے بغیر اپنا نکاح کرے تو اس کا نکاح بالکل صحیح و تام ہوگا،جیساکہ
درمختار میں ہے
فَنَفَذَ نِکَاحُ حُرَّۃٍ مُکَلَّفَۃٍ بِلَا رِضَا وَلِیٍّ
یعنی عاقلہ بالغہ آزاد عورت کا نکاح ولی کی رضا کے بغیر بھی نافذ ہوجاتا ہے۔
(الدرالمختاروردالمحتار۔جلد3۔صفحہ56۔المکتبۃ الشاملۃ)
اسی طرح فتاوی عالمگیری میں بھی ذکرہے
نَفَذَ نِکَاحُ حُرَّۃٍ مُکَلَّفَۃٍ بِلَا وَلِیٍّ :
یعنی آزادعاقلہ بالغہ عورت کا ولی کے بغیر اپنا نکاح صحیح ہے۔
(جزء1۔صفحہ287۔المکتبۃ الشاملۃ)
معلوم ہوا کہ صورت مستفسرہ میں،ولی کی اجازت کے بغیر کیاگیا نکاح،بالکل صحیح تھا۔لہذا والدکا یہ کہنا کہ ( یہ نکاح، ولی کی اجازت کے بغیر تھا ، لہذا ہوا ہی نہیں )اس جملے کی کوئی حیثیت نہیں !!!۔اگرواقعی میں یہ نکاح غیر معتبر تھا، تو کورٹ کے ذریعے ، خلع لینے کی کیا حاجت تھی؟بہرحال !صورتِ مستفسرہ میں کیا گیا نکاح ،بالکل درست و نافذالعمل ہے۔
ثانیاً یہ قاعدہِ شرع بھی ضروریادرکھیں کہ ،طلاق کا حق فقط شوہر کوحاصل ہے، اس کے بغیر کسی اور کا فیصلہ اصلاً نا قابل عمل ہے۔کیونکہ
ارشادِ باری تعالیٰ ہے
بِیَدِہٖ عُقْدَۃُ النِّکَاحِیعنی نکاح کا حق،شوہر کے ہاتھ میں ہے ۔(طلاق دینے کا اختیار محض اسی کو ہے )(البقرۃ۔رقم الآیۃ237)المعجم الکبیرللطبرانی میں ہے
لَا طَلَاقَ لِمَنْ لَا یَمْلِکُ عُقْدَتَہُ
یعنی جو طلاق کی گرہ کا مالک نہ ہو،وہ طلاق نہیں دے سکتا۔(المعجم الکبیر للطبرانی۔جزء11۔صفحہ 193۔حدیث11467 )
ثالثاً یہ بات بھی خوب یاد رہے کہ شرعی طور پر،باہمی رضامندی سے ،مال کے بدلے ،نکاح کوختم کرنے کانام خلع ہے،زوجین میں سے کسی ایک بھی فریق کی رضاکے بغیرخلع نافذ نہیں ہوتا،جیساکہ
بدائع الصنائع میں ہے
وَأَمَّا رُکْنُہُ فَہُوَ الْإِیجَابُ وَالْقَبُولُ؛ لِأَنَّہُ عَقْدٌ عَلَی الطَّلَاقِ بِعِوَضٍ فَلَا تَقَعُ الْفُرْقَۃُ، وَلَا یُسْتَحَقُّ الْعِوَضُ بِدُونِ الْقَبُولِیعنی ایجاب وقبول رکنِ خلع ہیں،کیونکہ خلع مال ِمخصوص کے عوض طلاق دینے کامعاہدہ ہے،لہذاقبولیت کے بغیرجدائی واقع نہ ہوگی اورنہ ہی شوہرکسی عوض کامستحق ہوگا۔(کتاب الطلاق۔جزء3۔صفحہ145۔المکتبۃالشاملۃ)
قرآن و حدیث اور جمہور علماء اسلام کی ذکرکردہ تعلیمات سے معلوم ہوا کہ صورتِ مستفسرہ میں کورٹ کی جانب سے کیا گیا یک طرفہ حکمِ خلع ،غیر نافذ العمل تھا۔کیونکہ نہ ہی شوہر ،کورٹ میں حاضر ہوا ،نہ ہی اس نے لفظا و تحریراً طلاق دی ہے ۔لہذا عورت اب بھی اپنے شوہر کی منکوحہ ہے۔چنانچہ اب اس کا کسی اور جگہ نکاح ممکن ہی نہیں ۔
ایسی صورتِ حال میں والدین پر لازم ہے کہ وہ حکمِ شرع پر عمل کرتے ہوئے، دوسرے نکاح سے فورا باز آئے،بصورتِ دیگر ناجائز و حرام فعل میں برابر کے شریک ہوں گے۔
نیز اس صورتِ حال میں جبکہ شوہر اپنے پاس رکھنے کو بھی تیار ہے ،لہذ اوالدین کو بھی چاہئے کہ وہ شرع کے فیصلے پر سرتسلیمِ خم کرتے ہوئے بیٹی کورخصت کرے۔
اس تمام حکمِ شرع کے باوجود بھی اگر والدین ،اپنی ضدو انا پر برقرا رہے اور مذکورہ نکاح کو تسلیم نہ کرتے ہوئے ،نکاح پر نکاح کرنے کو جائز سمجھے ، تو یقینا ان کا یہ عمل ناجائز و حرام ہے ۔ ایسی صورتِ حال میں (منکوحہ)عورت پر لازم ہے کہ وہ کسی بھی طرح اس دوسرے غیر مشروع نکاح سے راہ فرار اختیار کرے ....یا ... اپنے شوہر کے پاس چلی جائے،تاکہ حرام و گناہِ کبیرہ عمل کی نوبت ہی نہ آئے ۔
