مسئلہ نمبر 104

ہمارے پاس تین مکان ہیں، ایک میں ہم رہتے ہیں، باقی دومکان کرائے پر دئے ہوئے ہیں۔اب سوال یہ ہے کہ جو دو مکان کرائے پر دئے ہیں، کہ جن کی مالیت لاکھوں میں ہے، کیا ان مکانوں پر بھی زکوٰۃ ہوگی؟اگر ہوگی تو کیوں اور اگر نہیں ہوگی تو کیوں نہیں ہوگی یہ مسئلہ کلیر کردیں۔کیونکہ کبھی ہم سنتے ہیں کہ پلاٹ پر زکوٰۃ فرض ہے، کوئی کہتا ہے کہ فرض نہیں، کوئی کہتا ہے کہ فلیٹ ،دکان پر زکوٰۃ فرض ہے ،کوئی منع کرتا ہے ، آپ سمجھائیں کہ کون سی چیز پر زکوٰۃ کب فرض ہوگی اور کب فرض نہ ہوگی۔
 الجواب بتوفیق اللہ الوہاب
اولا! یہ ضابطہ شرع یاد رہے کہ زکوٰۃ، محض درج ذیل اموال پر فرض ہے باقی کسی بھی چیز پر فرض نہیں۔
سونا
چاندی
روپیہ(اس میں ہر طرح کی کرنسی پرائز بونڈز وغیرہ شامل ہے ) اور
مالِ تجارت۔
اسی طرح سائمہ جانور (یعنی چَرائی پر چھوڑے ہوئے جانور) پر بھی زکوٰۃ فرض ہے لیکن چونکہ آج کل عام لوگوں کے پاس یہ جانور نہیں ہوتے بلکہ دیگر اموال یعنی سونا چاندی، روپیہ کرنسی اور مال تجارت وغیرہ ہوتے ہیں، لہذا سائمہ (یعنی چَرائی پر چھوڑے ہوئے جانور)پر کلام کی حاجت نہیں۔
اس وضاحت کے بعد!۔ صورتِ مسؤلہ میں جو دو گھر کرائے پر دیئے گئے ہیں، وہ مذکورہ اموال(یعنی سونا،چاندی،روپیہ،مالِ تجارت وغیرہ)میں داخل نہیں، لہذا ان ( مکانوں پر) زکوٰۃ فرض نہیں۔البتہ ان مکانوں سے حاصل ہونے والا کرایہ ، اگر نصاب تک پہنچ جائے تو (بشرائط) زکوٰۃ فرض ہوگی۔ جیساکہ
اعلیٰ حضرت امام احمد رضاخان علیہ الرحمہ فرماتے ہیں
مکانات پر زکوٰۃ نہیں،اگرچہ پچاس کروڑ کے ہوں،کرایہ سے جو سال تمام پرپس اندازہوگا اس پر زکوٰۃ آئے گی،اگر خود..یا..اور مال سے مل کر قدرنصاب ہو۔(فتاویٰ رضویہ۔جلد10صفحہ161)
اسی طرح مفتی وقار الدین صاحب علیہ الرحمہ فرماتے ہیں
جو مکان بیچنے کی غرض سے تعمیر نہیں کیا گیا،بلکہ اپنے استعمال کے لئے بنایاگیاہے،اس کے کرائے پر زکوٰۃ ہوتی ہے، مکان کی مالیت پر نہیں۔(وقار الفتاویٰ ۔جلد2صفحہ391-392)
البتہ اگر کوئی شخص تجارت کی غرض سے مکان ..یا.. دیگر کوئی بھی پروپرٹی، جیسے فلیٹ، پلاٹ،دوکان وغیرہ خریدے تو اب مالِ تجارت بننے کی وجہ سے اس پر زکوٰۃ فرض ہوگی۔جیسا کہ ماقبل بیان ہوا۔
حضرت علامہ علاؤ الدین حصکفی علیہ الرحمۃ فرماتے ہیں
ولابد من مقارنتھا لعقدالتجارۃ:یعنی (مالِ تجارت بننے کے لئے)سامان کو خریدتے وقت نیت ِتجارت ہونا ضروری ہے۔
(درمختار۔جزء2۔صفحہ267۔المکتبۃالشاملۃ)
فتاویٰ عالمگیری میں ہے
ومنہا کون النصاب نامیا: وجوبِ زکوۃ کی شرائط میں سے مال کانامی ہونا بھی ہے۔
(جزء1۔صفحہ174۔المکتبۃالشاملۃ)
حاصلِ کلام یہ ہے کہ ہروہ پروپرٹی کہ جسے خالص بیچنے کی نیت سے خریداجائے ،تو وہ مالِ تجارت ہے، لہذا اس پر زکوٰۃ فرض ہے ،بصورتِ دیگریعنی اگر صرف رہنے کے لئے خریدی…یا..کرائے پر دینے کے لئے خریدی …یا.. اس نیت سے خریدی کہ مستقبل میں کام آئے گی…یا..نیت خالص نہ ہو، یعنی اس نیت سے خریدا کہ اگر ریٹ اچھے آگئے تو بیچ دوں گا، ورنہ نہیں، تو ان تمام صورتوں میں خریدی گئی پروپرٹی، مالِ تجارت نہیں لہذا ان پر زکوٰۃ فرض نہ ہوگی۔

 

کتبہمفتی محمد عابد اقبال
واللہ ورسولہ اعلم بالصواب

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *