ان پڑھ شوہر کا طلاق نامہ پر دستخط کرنا

مسئلہ نمبر 88

ایک شخص (سسر)نے ایک تحریر لکھی،پھر اپنے ان پڑھ داماد سے اس پر دستخط کروادئیے۔ تحریر میں یہ لکھا تھا کہ
میں اپنے ہوش و حواس میں اپنی بیوی کو اپنی مرضی سے طلاق دیتا ہوں ،طلاق دیتا ہوں،طلاق دیتاہوں
اب داماد کہتا ہے کہ اسے بالکل بھی علم نہیں تھا کہ اس پیپر پر کیا لکھا ہوا تھا ، تو اب اس کی طلاق ہوئی یا نہیں؟
 الجواب بتوفیق اللہ الوہاب
اگرصورتِ حال حقیقت پر مبنی ہے اور شوہرواقعی میں اتنا ” ان پڑھ ” ہے کہ بوقت ِ دستخط اسے معلوم ہی نہ تھا کہ جس پیپر پر وہ دستخط کررہا ہے، وہ” طلاق نامہ “ہے اور نہ ہی اس مضمون پر مطلع تھا، تو ایسی صورت میں کوئی طلاق واقع نہ ہوئی،لہذا ان کا نکاح بدستور باقی و برقرارہے۔
علامہ شامی علیہ الرحمۃ فرماتے ہیں
کل کتاب لم یکتبہ بخطہ ولم یملہ بنفسہ لا یقع الطلاق ما لم یقر أنہ کتابہ
یعنی ہر وہ تحریر کہ جسے اس (شوہر) نے خودنہ لکھا ہو، نہ ہی لکھوایاہو، اور وہ اس تحریر(کو خود لکھنے،لکھوانے یا کسی کے لکھے ہوئے کو رضامندی کے ساتھ قبول کرنے )
کا اقرار بھی نہ کرتا ہو، تو اس سے طلاق واقع نہ ہوگی۔
(ردالمحتار۔جزء3۔صفحہ247)
نیز! سسر کا یہ اقدام سخت ناجائز وحرام ضرورہوا،لہذا اس فعلِ شنیع پر وہ سخت گناہِ کبیرہ کا مستحق ہوا۔اس پر لازم ہے کہ اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں صدق ِ دل سے توبہ کرے۔


واللہ ورسولہ اعلم بالصواب

کتبہ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔مفتی محمد عابد اقبال

 

______________________________

علم سیکھیں  علم سکھائیں

آن لائن اسلامک کورسز کے لئےکلک کریں 

www.muftiabidiqbal.com

muftiabidiqbal@gmail.com

+923337743929